رات کے 9 بج چکے تھے، اور میں آرام دہ صوفے پر بیٹھا موبائل اسکرول کر رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر اپنے جگری دوست کا نام دیکھ کر مسکراہٹ آئی۔
"یار، مٹن کڑاہی کا دل کر رہا ہے۔ رات 10 بجے فلاں ہوٹل
پہنچ جا!"
میں نے بلا جھجک ہامی بھر لی، گاڑی کی چابی اٹھائی، اور ہوٹل کی جانب روانہ ہو گیا۔
ہوٹل پہنچ کر میں نے اپنے دوست کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ وہ کونے میں ایک میز پر بیٹھا ہوا تھا، لیکن یہ دیکھ کر میرے قدم رک گئے کہ اس کے ساتھ دو نقاب پوش لڑکیاں بھی بیٹھی تھیں۔ یہ منظر غیر متوقع تھا اور میرے ذہن میں سوالات اٹھنے لگے۔
"یہ کیا چکر ہے؟" میں نے قریب جا کر سرگوشی کی۔
دوست مسکراتے ہوئے بولا، "یہ دونوں بہنیں ہیں، بے سہارا ہیں اور شادی کی خواہشمند بھی۔ میں بڑی بہن سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور تم چھوٹی سے شادی کر لو۔ ہماری بیویوں کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔"
یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ دل میں عجیب سی کشمکش شروع ہو گئی، لیکن دوست کے اصرار اور "نیک کام" کا حوالہ دے کر میں مان گیا۔
مٹن کڑاہی کھائی گئی، اور پھر ہم مولوی صاحب کے پاس پہنچے۔ نکاح کی رسم سادگی سے ادا ہوئی، اور حق مہر کی رقم بھی فوری طور پر ادا کر دی گئی۔ نقاب پوش بہنیں سر جھکائے بیٹھی رہیں۔ نکاح کے بعد میں نے دل میں خوشی اور تجسس دونوں محسوس کیے۔
"چلو، اب نقاب ہٹاؤ تاکہ ہم اپنے نئے ہمسفر کو دیکھ سکیں،" میرے دوست نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جونہی دونوں لڑکیوں نے نقاب ہٹایا، میرے ہوش اڑ گئے۔ سامنے وہ دو خواتین تھیں جنہیں میں بچپن سے جانتا تھا۔ یہ میری بیوی کی قریبی رشتہ دار تھیں!
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میرے دوست کی بھی حالت غیر تھی۔ ان دونوں خواتین نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "اب تمہاری اور ہماری بیویوں کو سب بتانے کی ضرورت نہیں، ہم خود سب سمجھا دیں گی۔"
رات کے 12 بجے تھے، لیکن میرے لیے یہ رات نہ ختم ہونے والی لگ رہی تھی۔ میرے دوست اور میں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، لیکن کوئی بھی بولنے کی ہمت نہ کر سکا۔



0 Comments