دماغ کو تیز کرنے والی تین غذائیں نمبر ایک بلو بیریزو نائٹ سے بھرپور ہوتی ہیں جو انفارمیشن یا سوزش سے بچاتے ہیں اور یوں ہماری ذمہ کا تحفظ کرتے ہیں ایک تحقیق کے دوران تجربے میں شامل 26 افراد کو 12 ہفتوں تک بلیو بیلنس کا جوس پلایا گیا ان کے دماغ کو جانے والے خون کی گردش میں بہتری ہوئی خاص طور پر دماغ کے ان حصوں میں جو کاگنیٹو یا ادراکی افعال انجام دیتے ہیں لیکن یہ ہوا کیسے جب اپ شاید ایتھوسیانی ہے ایک اینٹی اکسیڈنٹ جو جامنی رنگ کی بہت سی غذاؤں میں ہوتا ہے اور جو صحت کے لیے کئی حوالوں سے وہ فیڈ سمجھا جاتا ہے ان میں سے ایک دماغ خلیوں کو بوڑھا ہونے سے بچانا بھی ہے
نمبر دو سبز پتوں والی سبزیاںیاں جو صحت مند خوراک کا ایک اہم حصہ ہیں یہ بھی کم عام نہیں کیونکہ ان میں سیلفین کی کثرت ہوتی ہے جس کے بارے میں سٹڈی سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دماغ کی صحت میں کردار ادا کرتی ہے خون ملیوٹین کی زیادہ مقدار کو کرسٹلائزڈ انٹیلیجنس سے جوڑا جاتا ہے یہ زندگی میں سیکھی کئی مہارتوں اور علم کو استعمال کرنے کی صلاحیت ہے عمر کے ساتھ ہمارے ذہنی افعال میں گراوٹ اتی جاتی ہے یوٹن ہماری سیکھی کئی ذہانت کو بحال رکھنے میں مدد کرتی ہے اور اب ایک اچھی خبر
نمبر تین ہے ڈارک چاکلیٹ 2018 میں کی جانے والی سٹڈی میں شریک افراد نے اٹھ دن مسلسل 70 فیصد چاکلیٹ کا استعمال کیا خون کے نتائج سے 177 جینز کے افراد میں بڑی تبدیلیوں کا پتہ چلا ان جنس میں جو امیر ریسپانس نورل سگنلنگ اور سینسری پرسپشن سے متعلق ہوتے ہیں چاکلیٹ میں کیلوریز اور سیٹ کو زیادہ ہوتی ہے مگر پروسائڈ ایناڈنس بھی ہوتے ہیں یعنی وہ فلیمونائٹس جو ایسے بہت سے پودوں میں پائے جاتے ہیں جو اینٹی انفلمیٹری اثرات رکھتے ہیں بلڈ سٹرین بیریر کو پار کر سکتے ہیں اور دماغ کے سیکھنے اور یادداشت سے متعلق حصوں پر اثر کرتے ہیں جیسے ہی فوکس ایک اور سٹڈی سے معلوم ہوا کہ ڈارک چاکلیٹ کھانے سے گیما ویوز میں اضافہ ہوتا ہے جو ادراکی افعال سے متعلق ہیں یہ غذائیں طویل وقت تک برین بوسٹر کے طور پر کام کرتی ہیں لہذا قوت سے بھرپور چاکلیٹ اور ظاہر ہے کہ سبزیوں کو جتنا جلد ممکن ہو سکے اپنی خوراک کا حصہ بنائیے



0 Comments