دو میاں بیوی کے عربت اور اس پر اللّٰہ کی مہربانی

 شکر ادا کرنے پر اللّٰہ کی مہربانی دیکھ 



ایک دفعہ ذکر ہے کہ کسی شہر میں دو میاں بیوی رہتے تھے وہ نہایت محتاج اور غریب تھے لیکن نہایت دیندار اور صابر و شاگرد تھے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے اور اللہ کی دی گئی نعمت پر چاہے جیسی مرضی ہو اس پر شکر ادا کرتے




 اس طرح ایک مرتبہ ایک ایسا موقع ایا کہ گھر میں کچھ بھی کھانے کو نہ تھا تو خاوند نے اپنی بیوی سے کہا کہ تین دن سے ہمارے گھر جھولا نہیں چلا اور ہمارے پاس کھانے کا کوئی انتظام نہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہمسایوں کو ہمارا یہ حال جان کر ملا لو اور ہم ان کی نظروں میں حقیر معلوم ہو لہذا تم تندور میں اگ جلائے رکھو تاکہ ہمسایوں کی یہ بدگمانی دور ہی رہے یہ سن کر اس شخص کی نیک سیرت بیوی نے ایسا ہی کیا اس میں تندور میں اگ جلا دی اور واپس ا کر اپنے شوہر کے پاس بیٹھ گئی


اب اللہ کی مہربانی دیکھ 

 تندور سے دھواں اٹھتا دیکھ کر پڑوسن اگ لینے اگئی اور کیا دیکھتی ہے یہ سارا تندور روٹیوں سے بھرا ہوا ہے یہ دیکھ کر اس نے اس نیک سیرت بیوی کو اواز دی کہ اللہ کی بندی تم تندور میں روٹیاں لگا کر ایسی بے خبر ہو گئی کہ خبر تک نہ لی یہ سن کر اس عورت نے گھر جا کر تندور دیکھا تو واقعتا خدا کی قدرت کا عجیب تماشہ اور کرشمہ نظر ایا کہ تندور نے روٹیاں بھری ہوئی ہیں اور تندور روٹیوں سے لبریز تھا اس نے اس میں سے روٹیاں نکال کر شوہر کے سامنے لا کر رکھا اور وہ خود حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی کہ یہ کیا ماجرہ ہو گیا یہ دیکھ کر اس عورت کے شوہر نے کہا اس میں حیرت اور تعجب کی کیا بات ہے


 اللہ کی ذات تو اس سے زیادہ ہزاروں قدرت رکھتی ہے پھر دونوں میاں بیوی نے خوب پیٹ بھر کر اور شکم سیر ہو کر کھانا کھایا اور کھانا کھانے کے بعد اپنے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے انہیں اس کھانے سے نوازا اس عورت نے سوچا کہ میرا شوہر اتنا ایماندار ہے اور اللہ کی ذات پر اتنا بھروسہ رکھتا ہے یہ سب کچھ اس کی قوت ایمانی کی وجہ سے ہوا ہے اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ ہمیں کوئی ایسی چیز عنایت فرما دے کہ جس سے دنیا کی روز روز کی فکر دور ہو جائے اور ہم دن رات اللہ کی عبادت میں لگے رہے شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ ہمارے ہر حال سے واقف ہے اور جو اللہ تعالی کے نزدیک بہتر ہوتا ہے وہ وہی کرتا ہے لیکن بیوی کے بیعت اصرار پر اس شخص نے ایک دن شب کے اخری لمحوں میں دعا کی کہ اے اللہ تو ہمارے حال سے اچھی طرح واقف ہے تیرے سامنے کسی بات کی عرض کی حاجت نہیں لیکن مسلم میری بیوی نے مضبوط کر دیا سوچا ہے تو اس کی خواہش پوری کر دے صرف وہ شخص دعا کر رہا تھا تو اس کی اطاعت سے ایک ہاتھ باہر نکلا جس میں ایک ایسا روشن ہوتی تھا جس سے پورا گھر روشن ہو گیا پھر وہ مودی رکھ کر غائب ہو گیا یہ دیکھ کر شوہر نےوی کو سکھانا چاہا کہ اللہ کی بندی جلدی اٹھو اللہ تعالی نے ہمارے دل کی مراد پوری کر دی ہے یہ سن کر بیوی اٹھی اور اپنے شوہر سے کہا کہ تم نے مجھے کیوں اٹھایا میں تو ایک لطیف خواب دیکھ رہی تھی کہ جنت ہر طرح سے سجی ہوئی ہے اور اس میں ایک نہایت عمدہ مکان جو کہ جواہرات سے بنا ہوا ہے اور اس قدر مزین اور روشن ہے کہ افتاب بھی اس کی روشنی دیکھ کر شرماتا ہے میں اس کی سہ کو وقت دیکھ کر کھوئی ہوئی تھی کہ کب ہوش انے پر میں نے پوچھا یہ عالی شان گھر کس کو ملے گا تو جواب ایا کہ یہ تم دونوں میاں بیوی کے لیے ہے یہ سن کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ ایک روشن ہوتی اس مکان سے گم ہو گیا اور مکان بدمع ہو گیا میں نے پوچھا یہ کیا ہوا ثواب ملا کہ وہ روشن مودی جس سے تمہارا مکان روشن تھا وہ مودی تمہاری خواہشات کے مطابق دنیا سے چلا گیا جس قدر تم دنیا میں راحت و ارام چاہو گے اسی قدر یہاں کے رستوں میں کمی ہوتی جائے گی یہ سن کر میں بدحواس ہو گئی اور دنیا کی لذت اور ارام سے بے نیاز میں اس کشمکش میں تھی کہ تم نے مجھ سے جگا دیا لہذا اپ اللہ تعالی سے پھر دعا کیجئے کہ یہ روشن مودی جہاں سے گم ہوا پھر وہی اپنے مقام پر واپس چلا جائے کیونکہ دنیا کی لذت سے باقی مکان کو ناقص بنا دینا سخت حماقت ہے صراط سے اس کے شوہر نے پھر اللہ کے سامنے گریا و زاری سے عرض کیا کہ اللہ تعالی تو بڑا رحیم و کریم ہے تم نے اپنی اس بندی کو سنت کا مزہ سکھا کر اس کو دنیاوی لذتوں سے نجات دی اور اس طرح تو بھی ایک مخالف کو ایک موافق بنا دیا میں تیری اس نعمت اور عنایت کا کس منہ سے شکر ادا کروں ابھی وہ اللہ تعالی سے دعا مانگی رہا تھا کہ اچانک پھر سے ایک ہاتھ ظاہر ہوا اور اس روشن موتی کو اٹھا کر پھر غائب ہو گیا ناظرین



Post a Comment

0 Comments