السلام علیکم میری 14 سالہ حسین سالی کچھ دنوں کے لیے ہمارے گھر رہنے ائی میں جسے بچے سمجھ رہا تھا وہ تو پوری اگ نکلی میری بیوی ہسپتال میں اپنی ماں کے ساتھ داخل تھی اسی لیے میری ساس رات کو میری سالی کو میرے پاس چھوڑ گئی میں نے اسے بچے سمجھ کر اپنے ساتھ سنا لیا کہ کہیں وہ نئے گھر میں ڈر نہ جائے لیکن اس نے تو ادھی رات کو میرے ساتھ ہی بیڈ پر رات کے 12 بجے کے قریب میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو میں جان گیا کہ میری سالی ندا ہی ہوگی کیونکہ وہ اس وقت پورے گھر میں اکیلی تھی اور وہ پہلی دفعہ ہمارے گھر رہنے کے لیے ائی تھی تو شاید اسے راہ کے اس پہر ڈر لگ رہا تھا جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ نیم برہنہ سی نائٹی پہنے دروازے پر کھڑی تھی مجھے دیکھتے ہی کہنے لگی کہ ارشد بھائی مجھے اپ کے گھر میں بہت خوف محسوس ہو رہا ہے کیا میں رات اپ کے ساتھ اپ کے کمرے میں گزار سکتی ہوں میری نظر میں تو ندا ایک 14 سال کی بچی تھی
لیکن میں پہلی بار اسے یوں دیکھ رہا تھا وہ تو کسی گلاب کی کلی کی طرح تروتازہ تھی 14 سال کی عمر میں ہی اس کا بدن بھرپور جوان ہو گیا تھا کمرے میں مدھم روشنی ہونے کے باوجود بھی نیم برہنہ نائٹی میں اس کے جسم کا حد حصہ واضح نظر ارہا تھا وہ میری بیوی کی چھوٹی بہن تھی یہی سوچ کر میں نے اس کے وجود سے نظر چرائی اور اسے سونے کے لیے صوفے پر ٹکیاں رکھ کر دے دیا اور خود بیڈ پر لیٹ کر موبائل چلانے لگا میری شادی کو پانچ سال ہونے والے تھے اور میری شادی کے وقت ندا ایک نو سال کی بچی تھی میرا اپنے سسرال بہت ہی کم جانا ہوتا تھا اسی لیے میں ندا کو ابھی تک بچے ہی سمجھ رہا تھا لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ وہ تو پوری قیامت بن چکی ہے میں موبائل نے مگن تھا اور ندا صوفے پر بھی چین لیتی تھی رات کے اس پہر موبائل پر بھی ایک سے بڑھ کر ایک سامان سامنے ارہا تھا جس کی وجہ سے میرے سوئے ہوئے جذبات جاگ رہے تھے میں نے رات کو اواز دیکھ کر پوچھا کہ کوئی مسئلہ ہے کیا ندا کہنے لگی کہ ارشد بھائی یہ صوفہ بہت چھوٹا ہے اور میرے پاؤں صوفے سے باہر جا رہے ہیں جس کی وجہ سے میں صحیح طرح سے لیٹ نہیں پا رہی ندا کی بات سن کر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم بیڈ پر ا جاؤ میں صوفے پر بیٹھ جاؤں گا ندا جیسے ہی بیڈ پر ائی تو میں اپنا تکیہ لے کر اٹھنے لگا لیکن ندا نے میرا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور کہنے لگی کہ اشد بھائی اپ کیا ساری رات بیٹھے ہی رہیں گے میرے ساتھ یہیں بیڈ پر سو جائیں
مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی میرے لیے ندا کے جسم سے نظریں ہٹانا مشکل ہو رہا تھا میں نے بہت مشکل سے ندا کی بات مان کر دوسری طرف کروٹ بدلی اور موبائل چلانے لگا مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب میری انکھ لگ گئی ابھی مجھے سوئے ہوئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ہی میری انکھ کھلی اور میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جسے میں ایک کم عمر بچی سمجھ رہا تھا وہ تو پوری شراب ہے ہر گزرتے پل کے ساتھ میرے دل میں جذبات کا طوفان گھاٹے مارنے لگا تھا لیکن میں بہت مشکل سے خود پر قابو پا رہا تھا لیکن پھر ندا نے میرے ساتھ کچھ ایسا کیا کہ میرے قدموں تلے زمین نکل گئی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی بات ماننے پر مجبور ہو گیا میری اور صبا کی شادی کو پانچ سال گزر چکے تھے اور ان پانچ سالوں میں ایسا کوئی دن نہیں تھا جب صبا نے میری خدمت میں کوئی کسر چھوڑی ہو میری اور صبا کی پہلی ملاقات کالج میں ہوئی تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو پہلی ہی نظر میں پسند اگئے تھے ہم دونوں کے پیار محبت کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے شادی تک پہنچ گیا تھا جب میں نے اپنے گھر والوں کو صبا کے متعلق بتایا تو میری ماں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ خاندان سے باہر وہ کسی صورت میری شادی نہیں کریں گی لیکن میں صبا کی محبت میں اتنا اگے بڑھ چکا تھا کہ واپسی کا کوئی راستہ ممکن نہیں تھا اس کے بغیر تو ایک پل بھی گزارا کرنا مشکل تھا ہم دونوں اپنی ہی محبت میں ساری حدود پار کرتے ہوئے تمام رشتے قائم کر چکے تھے کالج میں جانے کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر واپس باہر نکل جاتے اور کالج کے پیچھے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے میں نے اپنی ماں کو منانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کسی بھی صورت میں اس شادی کے لیے راضی نہ ہوئی اور میں نے سبق کے ساتھ بات کا شادی کر لی جب میرے ماں باپ کو اس بارے میں علم ہوا تو انہوں نے مجھے گھر سے ہی نکال دیا کیونکہ میں
کوئی نوکری نہیں کرتا تھا اور نہ ہی میری کوئی کمائی تھی اور جب صبا کے گھر والوں کو اس بارے میں پتہ چلا تو وہ بھی ہماری شادی کے خلاف ہو گئی اور وجہ یہی تھی کہ میں کچھ بھی نہیں کماتا تھا بہت مشکل سے میں نے صبا کے گھر والوں کو راضی کیا لیکن صبا کے گھر والوں کافی عرصے تک میں اور صبا خاکوں والی زندگی گزارتے رہے لیکن جیسے ہی میری نوکری لگی اور میرے حالات کچھ بہتر ہوئے تو صبا نے اپنے گھر والوں سے ملنا جلنا شروع کر دیا لیکن اب وہ لوگ مجھے بالکل بھی پسند نہیں تھے کیونکہ جب مشکل حالات تھے تو انہوں نے مجھے نہیں اپنایا تھا اور اسی لیے میں صبا کے گھر نہ جانے کے برابر جاتا تھا سال میں ایک یا دو دفعہ اسی لیے میں نے صبا کی چھوٹی بہن ندا کو کبھی صحیح سے دیکھا بھی نہیں تھا نہ ہی میں اس بات سے واقف تھا کہ وہ اب 14 برس تھی ایک خوبصورت لڑکی بن چکی ہے خدا نے ہمیں اولاد کی نعمت سے کئی سالوں تک محروم رکھا تھا اور بہت زیادہ علاج کرانے کے بعد اب صبا ہمارے بچے کو جنم دینے جا رہی تھی میرے گھر والے تو تھے نہیں اسی لیے مجبورا مجھے صبا کی ماں کو بلوانا پڑا اور جب ہم صبا کو ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکڑ نے بتایا کہ صبا کو ایک دو تین ہسپتال میں داخل رہنا پڑے گا برین سی کے اس عرصہ میں صبا کو بہت سی بیماریاں ہو چکی تھی اس لیے اس کا کیس کافی مشکل تھا صبا کے والد کہیں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے اس لیے صبا کی والدہ نے اس کی چھوٹی بہن کو میرے پاس ہمارے گھر میں چھوڑ دیا کیونکہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی میں بہت عرصے بعد صبا کی بہن ندا کو پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا اور میں اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا میں تو صباح کی خوبصورتی کا ہی دیوانہ تھا لیکن اس کی چھوٹی بہن تو اسے کہیں زیادہ خوبصورت تھی اور اسے دیکھ کر میں صبا کو بھول گیا تھا ندا نے صبا کی غیر موجودگی میں گھر کے سارے کام کاج بہت اچھے سے کیے اور مجھے بالکل محسوس نہیں ہوا کہ صبح گھر میں نہیں ہے اس نے سارے گھر کو سلیقے سے صاف ستھرا کر کے سونے کی تیاری شروع کی تو میں بھی اپنے کمرے میں چلا ایا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد جب کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو میں جان گیا کہ ندا ائی ہے شاید اسے کسی چیز کی ضرورت تھی لیکن میں اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ ندا تو کچھ اور ہی ارادہ لے کر ائی ہے پہلے تو وہ صوفے پر ارام سے بیٹھ گئی اور کہنے لگی کہ مجھے بہت زیادہ اکیلے پن میں خوف محسوس ہو رہا تھا کیونکہ یہ گھر میرے لیے بالکل نیا ہے اسی لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپ کے کمرے میں ہی رات گزار لوں میں نے ندا سے کہا کہ اچھا کیا جو تم چلی ائی یہ تمہارا اپنا ہی گھر ہے تم یہاں ارام سے سو سکتی ہو لیکن ندا کو یوں نیم برہانہ نائٹی میں دیکھ کر میری نظریں بار بار اس کے جسم کا طواف کر رہی تھی ندا میرے چہرے پر نظر جمائے بہت ہی توجہ سے مجھ سے بات کر رہی تھی وہ اہستہ اہستہ مجھے بتا رہی تھی کہ جب اس نے مجھے پہلی بار دیکھا تھا تو میں پہلے ہی نظر میں اسے بہت اچھا لگا تھا اس وقت وہ صرف نو سال کی تھی وہ کہنے لگی کہ مجھے دیکھتے ہی اسے اپنی اپی کی پسند پر رشک انے لگا اور اسے خوشی ہوئی کہ اس کی اپی کی قسمت اتنی اچھی ہے ندا کہنے لگی کہ اس دن کے بعد سے میں اس کے خیالوں میں بیٹھ گیا تھا اور وہ یہی تصور کرتی ہے کہ اس کی زندگی میں انے والا شخص بھی بالکل میرے جیسا ہی ہوگا ندا مجھ سے بات کرتے کرتے اپنی 90 کی ڈوری سے بھی کھیلنے لگی تھی وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ میری بڑی بڑی انکھیں اس کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے بیٹھ گئی تھی وہ کہنے لگی کہ اس نے کئی مرتبہ اپنے ابا سے میرے لیے جھگڑا بھی کیا کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے ابا مجھے معاف کر کے ہمیں اپنا لیں کیونکہ وہ مجھے دوبارہ دیکھنے کو بہت بے چین تھی مجھ سے باتیں کرتے کرتے وہ صوفے پر لیٹ گئی اور میں بہت مشکل سے اسے نظر چرا کر اپنے فون میں دھیان لگانے لگا کمرے کا ماحول اچانک ہی بہت گرم ہو گیا تھا ندا ایک جلتی ہوئی اگ تھی جو مجھے اندر تک دہکا رہی تھی میں تو اسے ایک بچی سمجھ رہا تھا لیکن اس کی جوانی تو کسی کو بھی دیوانہ کر سکتی تھی تھوڑی ہی دیر میں وہ بے چینی سے کروٹیں بدلنے لگی میرا دھیان بار بار بھٹک کر ندا کے وجود پر جا رہا تھا اور جب میں نے اسے بے چین دیکھا تو میں پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے وہ کہنے لگی کہ یہ صوفہ بہت زیادہ غیر ارام دہ ہے اور میں اس پر ارام سے نہیں سو سکتی یہ سنتے ہی میں نے اسے کہا کہ وہ بیڈ پر ا کر سو جائے اور صوفے پر میں سو جاؤں گا وہ جیسے ہی بیٹھ کی طرف ائی تو میں اٹھنے لگا ندا نے فورا ہی میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ ارشد بھائی اپ کو تکلیف اٹھانے کی کیا ضرورت ہے یہ اپ کا اپنا ہی گھر ہے میں ایک طرف لیٹ جاتی ہوں دوسری طرف اپ لیٹ جائیں میں ندا کی بے باکی دیکھ کر حیران رہ گیا تھا لیکن میں خود بھی ارام کرنا چاہتا تھا سارا دن صبا کے پیچھے میں نے ہسپتال میں کافی بھاگ دوڑ کی تھی اسی لیے میں بیڈ پر ایک کونے سے ہو کر لیٹ گیا اور اپنا فون چلانے لگا ندا کی موجودگی میں اپنے جذبات پر قابو پانا میرے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا جس سے میں اس وقت گزر رہا تھا فون چلاتے چلاتے ہی مجھے کب نیند اگئی مجھے پتہ بھی نہ چلا اور جب میری انکھ کھلی تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی انگلیاں میرے جسم پر حرکت کر رہی ہیں میرے اندر ایک طوفان سا اٹھنے لگا تھا ندا جان بوجھ کر میرے جذبات کو ابھار رہی تھی وہ اپنے دلی جذبات تو باتوں باتوں میں پہلے ہی بیان کر چکی تھی کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے اور اب رات کے اندھیرے میں وہ اس طرح میرے قریب ا کے یہ بات ثابت کر رہی تھی کہ اس کے دل میں میرے لیے بہت کچھ تھا میں ایک مارتا اور بہت کوشش کے باوجود بھی میں خود کو ندا سے دور نہ کر سکا اور میں بھی کروٹ بدل کر اس کے قریب ہو گیا ندا تو جیسے اسی بات کے انتظار میں تھی جیسے ہی اسے علم ہوا کہ میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں وہ فورا ہی اپنی جذبات مجھ پر لٹانے لگی اور میں نے بھی اس کے ہارٹ جذبے کی خوب پذیر ائے گی جب ہم دونوں اپنا مقصد حاصل کر چکے تو ندا نے اپنے فون میں میرے ساتھ ہماری کئی تصاویر کھینچی جن میں ہم دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں تھے ہم دونوں ہی بے حجاب تھے میں نے ندا سے کہا کہ اس طرح کی تصاویر فون میں نہ لے لیکن ندا کہنے لگی کہ جب میں اس کے ساتھ نہیں ہوں گا تو وہ میرے ساتھ ان تصاویر کو دیکھ کر اپنے بیتے ہوئے پلوں کو یاد کرے گی میں اس کی ایک ایک ادا پر فدا ہو گیا تھا وہ پوری طرح اپنی جوانی مجھ پر لٹا چکی تھی اس کا نرم و نازک گلاب جیسا کھلتا بدن مجھے مدہوش کر گیا تھا اور میں یہ تک بھول گیا تھا کہ میری محبوب بیوی اس وقت تکلیف کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہے اور وہ کبھی بھی میری بچی کو جنم دے سکتی ہیں ندا کے ساتھ رات گزار کر میں ایسے مسرور تھا جیسے کوئی قلع فتح کر لیا ہو لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ یہاں سے میری بربادی کا اغاز ہونے والا تھا جیسے ہی میں ہسپتال جانے کے لیے نکلنے لگا ندا نے مجھے اواز دے کر روکا اور میرے قریب ا کر مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا اور مجھے چومتے ہوئے کہنے لگی کہ اپ جاتے جاتے مجھے کچھ پیسے دے جائیں مجھے بازار جانا ہے ندا کی بات سنتے ہی میں نے بٹوے سے ہزار ہزار کے پانچ نوٹ نکال کر ندا کے حوالے کیے میرے ہاتھوں سے نوٹ لے کر اس کے چہرے پر ایک معصوم سی مسکراہٹ بکھر گئی میں نے بدلے میں اس کے ہونٹوں کو چ*** اور گھر سے نکل پڑا میں سارا راستہ خوشی سے سرشار جب ہسپتال پہنچا تو میری بیوی صبا کی حالت بہت خراب تھی ڈاکٹر نے بتایا کہ صبا زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے اور کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے صبا کی ماں بھی بہت زیادہ پریشان تھی جبکہ ہسپتال جا کر میری حالت بھی خراب ہو گئی تھی سارا دن میں صبا کے ساتھ رہا لیکن صباح کی حالت پہلے سے بہتر نہ ہوئی ڈاکٹر نے کہا کہ کچھ دن صباح کو اور ہسپتال میں رکھنا ہوگا یہ سن کر نہ جانے کیوں مجھے عجیب سا سکون محسوس ہوا کہ صبا جتنے دن ہسپتال میں رہتی مجھے ندا کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل جاتا میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ میرے بچے کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ڈاکٹر نے مجھے تسلی دی میں رات تک ہسپتال میں رہا اور رات کے وقت میں صبا کی امی سے یہ کہہ کر گھر واپس اگیا کہ ندا گھر پر اکیلی ہوگی اپ مجھے واپس جانا چاہیے کیونکہ ہسپتال میں صبا کے ساتھ کسی عورت کو ہی رکنے کی اجازت دی اسی لیے صبا کی امی کا رہنا بہت ضروری تھا میں جب ہسپتال سے گھر واپس لوٹا تو ندا بہت ہی خوش تھی اس نے بہت ساری خریداری کی تھی اور وہ مجھے ایک ایک کر کے سارے کپڑے پہن کر دکھا رہی تھی اسے مجھ سے بالکل بھی شرم محسوس نہیں ہو رہی تھی وہ بہت ارام سے میرے سامنے بنا کسی دوپٹے کے بے جھجک گھوم رہی تھی اس کے کپڑے جسم پر اس قدر فٹے کے سب کچھ واضح نظر ارہا تھا اس کا گہرا گلا اس کی کھلتی ہوئی رنائیوں کو جھلکا رہا تھا وہ بار بار میرے قریب اتی اور میں اپنے ہوش کھونے لگتا اچانک ہی وہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ میں صبا اپی کی الماری کھول کر دیکھ سکتی ہوں کیا میں نے ندا سے کہا کہ اس نے بھلا پوچھنے کی کون سی بات ہے تمہاری اپی کی تو الماری ہے اس نے کہا کہ چابی دے پھر مجھے میں نے اسے چابی دے دی اور وہ سبا کی الماری کھول کر ایک چیز دیکھنے لگی اور صبا جو کپڑے میرے لیے رات کو پہنتی وہ نکال نکال کر مجھے دکھانے لگی اور مجھ سے پوچھنے لگی کہ اس میں سے اپ کو کون سا پسند ہے میں نے ایک چھوٹی سی نیلی رنگ کی نائٹی پر ہاتھ رکھا اور اسے کہا کہ یہ صبا پر بہت جچتی ہے یہ سنتے ہی ندا وہ نائٹی اٹھا کر کمرے سے نکل گئی اور جب کافی دیر بعد واپس ائی تو میری انکھیں حیرت سے پھیل گئی وہ صبا کی نائٹی پہنے اس سے بھی کہیں زیادہ حسین لگ رہی تھی اچانک ہی وہ میرے اگے ا کر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ میرے بدن پر زیادہ جج رہی ہے یا اپ ہی پر یا اپی پر زیادہ ڈٹتی ہے یہ سنتے ہی میں نے اسے اپنی باہوں میں بھرا اور بہت محبت سے اسے کہا کہ یہ تمہارے دودھیا بدن پر بہت خوب لگ رہی ہے صبا تو یہ پہن کر اتنی اچھی نہیں لگتی جتنی تم لگ رہی ہو میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائل لے کر سائیڈ پر رکھ دیا اور خود میں اس پر اپنی محبت لوٹانے لگا اسے اس نائٹی میں دیکھ سکتا تھا کہ 14 سال کی عمر میں کوئی لڑکی حسن کی دیوی بھی ہو سکتی ہے لیکن ندا تو حسن کی ساری حد پار کر رہی تھی اس کا پورا ہی بدن بہت حسین تھا اور میں ہر گزرتے پل کے ساتھ اس پر حاوی ہوتا جا رہا تھا ساری رات اس پر اپنے جذبات لٹانے کے بعد جب میں صبح ہسپتال پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ میری بیوی نے ابھی ابھی ایک مردہ بچے کو جنم دیا ہے یہ سن کر تو میری حالت خراب ہو گئی میری بیوی کی حالت بھی بہت زیادہ خراب تھی اور ڈاکٹر اسے ٹھیک کرنے کی پوری کوشش کر رہے تھے شام تک صباح کی حالت کچھ بہتر ہوئی تو اسے ہسپتال سے چھٹی مل گئی مجھے اپنے بچے کے انتقال کا بہت دکھ تھا میں صبا کو سنبھالتے ہوئے گھر لے ایا صبا کو دیکھ کر ندا کا چہرہ اتر گیا تھا اس نے ایک عجیب سی نظر صبا پر ڈالی اور کمرے میں چلی گئی میں نے صبا کو کمرے ملا کر لٹا دیا اس کی امی نے مجھے صبا کی دوائیوں سے متعلق اگاہ کیا میں صبا کی امی کے ساتھ باہر لاؤنج میں بیٹھا ان کی بات سن رہا تھا کہ جب میں نے ندا کو سبا کے پاس جاتے ہوئے دیکھا مجھے کچھ خوف محسوس ہوا لیکن میں جانتا تھا کہ ندا ایسی کوئی بات صبا کے اگے نہیں کہے گی تھوڑی دیر میں ندا واپس ائی اور اپنی ماں سے کہنے لگی کہ چلیں امی اب ہم گھر چلتے ہیں اور وہ دونوں اپنے گھر واپس چلے گئے میں نے ندا کو اخری بار الودائی نظروں سے دیکھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب ہم دونوں کا ملنا بہت مشکل ہے ندا کو جانتا دیکھ میں نے ایک ٹھنڈی اہ بھری تھی تھوڑی دیر بعد جب میں دودھ کا گلاس لیے اپنے کمرے میں پہنچا تو صبا گم سم سی بیٹھی ہوئی تھی میں نے اسے کہا کہ کوئی بات نہیں اگر ایک اولاد چلی بھی گئی تو ہمیں اللہ دوبارہ اولاد سے نوازے گا میری بات سن کر صبا نے مجھے بہت عجیب نظروں سے دیکھا اور کہنے لگی جو میں نے کھو دیا ہے اسے دوبارہ پانا ممکن ہی نہیں صبا کے لہجے نے مچھی چونکا دیا تھا میں اس کے اگے ہی بیٹھ گیا اور اسے کہنے لگا کہ ایسی بات کیوں کر رہی ہو صبا کہنے لگے کہ ندا میری سگی بہن نہیں ہے بلکہ وہ میری پھوپوں کی بیٹی ہے جسے پپو کے انتقال کے بعد ابا ہمارے گھر لے ائے تھے لیکن ندا کو بچپن سے ہی مجھ سے بہت نفرت تھی کیونکہ گھر میں ہر چیز میری تھی اور اسے ہر وہ چیز چاہیے ہوتی جو میرے پاس ہوتی ابا نے کبھی اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہونے دی لیکن اس کے باوجود بھی وہ مجھ سے حسد میں مبتلا رہی اس کی نظر ہر اس چیز پر ہوتی جو ابا میرے لیے لاتے یا جسے میں پسند کرتی جب میری تم سے شادی ہوئی تو تم میرے گھر انا جانا نہیں کرتے تھے اور مجھے اس بات کی تسلی تھی کہ وہ تم پر اپنی نظریں نہیں جمائے گی لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ میرے حسد میں اتنی اگے بڑھ چکی تھی کہ اس نے تمہیں مجھ سے چھیننے کے لیے وہ سب کر دیا جس کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی صبا کی انکھوں سے انسو بہہ رہے تھے اور وہ مجھ سے کہہ رہی تھی کہ ندا نے جانے سے پہلے مجھے وہ ساری ویڈیو دکھا دی ہے اور ساری تصاویر بھی دکھا دی ہیں جن میں ہم دونوں ایک ساتھ تھے صبا کی بات سن کر میں صدمے میں اگیا تھا ندا نے سب کچھ جان بوجھ کر ایک مقصد کے تحت کیا تھا اور میں اس کے ہاتھوں کھلونا بن گیا تھا صبا کی انکھوں میں میرے لیے صرف اور صرف نفرت باقی بچ گئی تھی اس نے اپنی اولاد بھی کھو دی تھی اور شوہر بھی میں صبا کے اگے شرمندگی سے سر جھکا گیا تھا کہ جب صبا نے مجھ سے کہا کہ وہ چاہتے جاتے مجھ سے میری نیلی نائٹی مانگ کر لے گئی ہے کیونکہ وہ تمہیں مجھ سے زیادہ اس کے بدن پر ججتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مجھے لگا تھا جیسے صبا کے لفظوں نے مجھے زمین میں زندہ گاڑ دیا ہو وقت جذبات کے ہاتھوں میں میں اپنی پوری زندگی ہار گیا تھا اور اب کبھی صبا کے اگے نظر اٹھا کر زندگی نہیں گزار سکتا تھا ندا نے کچھ ہی وقت بعد مجھے بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا وہ مجھ سے ہر بار ایک بڑی رقم کا تقاضہ کرتی اور میرے نہ دینے کا کہنے پر میری تصاویر وائرل کرنے کی دھمکی دے دی میں جسے 14 سال کی ایک سیدھی سادی معصوم بچی سمجھ رہا تھا وہ دراصل ایک فتنہ تھی جس نے میری پوری زندگی برباد کر کے رکھ دی تھی میرا اور صبا کا تعلق بالکل مردہ ہو گیا تھا کیونکہ صبا اب مجھے صرف اور صرف نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی وقت لذت اور مزے نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا



0 Comments