آپ سونے سے پہلے عام طور پر یہ بات یقینی بناتے ہیں کہ کوئی کھانے کی چیز یا اس کا ٹکڑا فرش یا میز پر کہیں رہ نہ جائے، کیونکہ دوسری صورت میں یہ چوہوں جیسے کچھ ناپسندیدہ مہمانوں کو دعوت دے سکتا ہے۔
لیکن دنیا کے کچھ حصوں میں، خاص طور پر افریقہ اور ایشیا کے چند دیہی علاقوں میں، چوہے ناپسندیدہ نہیں بلکہ ایک قیمتی نعمت سمجھے جاتے ہیں۔
چوہے کا جہیز – ایک حیرت انگیز روایت
دنیا کے ہر کونے میں رہنے والے انسان اپنی ثقافتوں، روایات، اور عقائد کے لحاظ سے الگ اور منفرد ہیں۔ بعض چیزیں جو ایک ملک یا قوم کے لیے عام یا قیمتی سمجھی جاتی ہیں، وہی دوسری جگہ پر عجیب، ناقابلِ یقین یا ناپسندیدہ قرار پاتی ہیں۔
ایسی ہی ایک دلچسپ اور حیران کن روایت ہمیں افریقہ کے کچھ دیہی علاقوں میں دیکھنے کو ملتی ہے — جہاں چوہے صرف ایک جانور نہیں بلکہ خوش بختی، رزق، اور محبت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
چوہے – ایک نعمت یا مصیبت؟
ہم میں سے اکثر لوگ رات سونے سے پہلے یہ بات یقینی بناتے ہیں کہ فرش یا میز پر کھانے کا کوئی ٹکڑا باقی نہ رہ جائے، کیونکہ ہمیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں چوہے نہ آ جائیں۔ ہمارے لیے چوہے بیماری، گندگی، اور نقصان کی علامت ہیں۔
مگر دنیا کے کچھ حصوں میں، خاص طور پر زمبیا، ملاوی، اور موزمبیق جیسے افریقی ممالک میں، چوہے ایک قیمتی نعمت سمجھے جاتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا یقین ہے کہ چوہے نہ صرف خوراک کا ذریعہ ہیں بلکہ ان میں شفا اور طاقت کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
چوہے بطور غذا
ان علاقوں میں چوہوں کو پکڑنے، سکھانے، اور بھون کر کھانے کا رواج عام ہے۔ انہیں خاص تہواروں اور دعوتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ چوہے کا گوشت طاقت بڑھاتا ہے، جسم کو گرم رکھتا ہے، اور کئی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے۔ کچھ قبیلوں میں تو یہ بھی عقیدہ ہے کہ جو شخص چوہے کا گوشت کھاتا ہے، اس کی قسمت چمک اٹھتی ہے۔
دلچسپ روایت — چوہے کا جہیز
افریقہ کے ایک مشہور قبیلے میں شادی کے موقع پر ایک انوکھی رسم ادا کی جاتی ہے۔ دلہن کے جہیز میں زیورات، برتن یا کپڑوں کے ساتھ چوہے بھی تحفے کے طور پر شامل کیے جاتے ہیں۔
انہیں "خوش بختی کے تحفے" کہا جاتا ہے۔
یہ عقیدہ ہے کہ جتنے زیادہ چوہے دلہن کے جہیز میں ہوں گے، اتنی ہی زیادہ دولت، رزق، اور برکت اس کے نئے گھر میں آئے گی۔
دلہن کے خاندان والے بڑی محنت سے صحت مند اور موٹے چوہے تلاش کرتے ہیں تاکہ انہیں جہیز میں شامل کیا جا سکے۔ شادی کی تقریب میں جب یہ چوہے پیش کیے جاتے ہیں تو سب انہیں خوش بختی کی علامت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔
ایک روایت، کئی معنی
دنیا کے لیے یہ رسم یقیناً عجیب لگ سکتی ہے، لیکن وہاں کے لوگوں کے لیے یہ روایت محبت، عقیدت، اور امید کی نمائندگی کرتی ہے۔
یہ ان کی ثقافت کا وہ حصہ ہے جو بتاتا ہے کہ خوشی اور برکت کی تشریح ہر قوم اپنے انداز میں کرتی ہے۔
اختتامیہ – سوچنے پر مجبور کرنے والی کہانی
جہاں ہم چوہوں کو مضرِ صحت سمجھ کر ان سے دور بھاگتے ہیں، وہیں دنیا کے کچھ لوگ انہیں اپنی زندگی کی خوشیوں، برکتوں، اور محبتوں کی علامت مانتے ہیں۔
یہ کہانی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ دنیا میں کسی بھی چیز یا رسم کو سمجھنے سے پہلے اس کے پیچھے چھپی ثقافت، عقیدہ، اور احساسات کو جاننا ضروری ہے — کیونکہ جو چیز ہمیں عجیب لگتی ہے، وہ کسی دوسرے کے لیے نعمت ہو سکتی ہے۔ 🐀💍



0 Comments